Flag

An official website of the United States government

امریکہ کے معاون ایلچی برائے تجارت کی رسد رسانی سے متعلق مباحثہ میں شرکت
کی طرف سے
1 منٹ پڑھیں
مارچ 8, 2022

اسلام آباد (۹ مارچ ۲۰۲۲ء )—امریکی سفارتخانہ اسلام آباد  نے سات مارچ کو  ایک ورچوئل تبادلہ خیال  نشست کا انعقاد کیا، جس میں جنوبی اور وسطی ایشیا  کے لیے امریکہ کے  معاون ایلچی برائے تجارتی اُمور  کرسٹوفر ولسن  نے بھی شرکت کی ۔  اس گول میز  نشست  کے دوران  رسد رسانی میں تنوع اور شمولیت کو فروغ دینے کے حوالے سے گفتگو کی گئی ۔اس  نشست میں امریکہ اور پاکستان کی سرکردہ کمپنیوں کے عہدیداران  اور سامان کی خریداری کے ذمہ دار اہلکاروں نے  اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔

نشست  کی میزبانی  کے فرائض وی کنیکٹ انٹرنیشنل اور یو ایس پاکستان ویمنز کونسل ( یو ایس پی ڈبلیو سی)  نے  سر انجام دیے۔واضح رہے کہ وی کنیکٹ انٹرنیشنل ایک  بین الاقوامی غیر منافع بخش تنظیم ہے جو خواتین کی ملکیت والے تجارتی منصوبوں کو بین الاقوامی تجارتی سلسلوں تک رسائی اور کامیابی کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔    مقامی کاروباری  خریداروں، سرکاری حکام، ذاتی تجارت کرنے والی خواتین اور تجارتی اداروں کے مالکان  بھی اس نشست میں مہمان تھے۔

اس موقع پر  اپنے   استقبالیہ کلمات میں  امریکی سفارتخانہ اسلام آباد کے  نگران نائب چیف آف مشن رِک سنیل سائر نے کہا کہ  امریکہ نجی شعبہ کے لیے کاروباری ماحول کی بہتری کی خواہاں حکومتوں کو معاونت فراہم کرتا ہے ۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ  کسی بھی ملک کی معیشت میں خواتین کو برابر  اور  بغیر روک ٹوک  کردار ادا کرنے   کا موقع دینے سے معاشی ترقی کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

اس موقع پر امریکہ کے  معاون  ایلچی برائے تجارتی اُمور نے کہا کہ تجارت سے میسر ہونے والے فائدہ میں خواتین کی شمولیت  یقینی بنانا امریکی حکومت کی تجارتی پالیسی کی سرفہرست ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے  کہا کہ  دونوں ملکوں کے نجی شعبوں اور حکومتوں کے درمیان  تعاون کے امکانات کے بارے میں پاکستانی  کاروباری رہنماؤں کے خیالات سے اُن کی معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔

وی کنیکٹ انٹرنیشنل کی سربراہ اور شریک بانی ایلزبتھ اے ویز کوئیز نے  گول میز کانفرنس کی میزبانی کے فرائض سرانجام دیے اور سوالات و جوابات کی نشست   کی  منتظم رہیں۔ انہوں نے کہا کہ  خواتین کی  ملکیت والے تجارتی سلسلوں کو مقامی اور بین الاقوامی منافع بخش اداروں سے جوڑنے کے نتیجہ میں  ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنے اور صنفی تفریق کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس کی وجہ سے  کُل قومی پیداوارمیں تیس فیصد تک اضافہ کے امکانات ہوتے ہیں۔  یہ تقریب  سرکاری اور نجی شعبہ میں ہمارے اثرات کی مضبوط مثال ہے کہ  کیسے  خواتین کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنے  کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

اس موقع پر پاکستان کی  وزارت تجارت کے ایک نمائندہ نے بھی خواتین کو معاشی طور پر  بااختیاربنانے کے حوالے سے  اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

امریکی سفارتخانہ اسلام آباد یو ایس پی ڈبلیو سی کے ساتھ کام کرتا ہے، جو کہ امریکی وزارت خارجہ اور ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کے درمیان ایک سرکاری اور نجی شعبوں پر مشتمل اشتراک ہے اور اس کا مقصد  نجی شعبہ، سول سوسائٹی اور سرکاری شعبہ سے تعلق رکھنے والے قائدین کے عزم پر عملدر آمد کرانے کی کوششیں تیز تر کروانا ہے تاکہ  پاکستان میں خواتین کو معاشی طور پر  با اختیار بنانے کے حوالے سے  پیش قدمی کی جاسکے۔

###