Flag

An official website of the United States government

امریکی سفارتخانہ اور قائد اعظم یونیورسٹی کے زیراہتمام سولہویں امریکن اسٹڈیز کانفرنس کا انعقاد
کی طرف سے
1 منٹ پڑھیں
ستمبر 15, 2022

اسلام آباد ( ۱۵ ستمبر ۲۰۲۲ء)-  امریکی سفارتخانہ اسلام آباد اور قائد اعظم یونیورسٹی کے ایریا اسٹڈی سنٹر برائے  افریقہ، شمالی و جنوبی ایشیا   نے  مشترکہ   طور پر   ” امریکہ-پاکستان تعلقات کے پچہتر سال” کے عنوان سے  دو روزہ کانفرنس کا انعقاد  کیا ، جس کا مقصد  دونوں ملُکوں کے درمیان پچہتر برسوں پر مُحیط باہمی تعلقات   کو اجاگر کرنا تھا۔  کانفرنس کے شرکاء نے   تجارت، ماحولیاتی تبدیلی، توانائی اور تعلیمی تبادلہ  کے شعبوں  میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرتے ہوئے  باہمی تعلقات کو مزید گہرا کرنے اور اُنھیں  وسعت دینے  پر تبادلہ خیال کیا۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمّد علی نے یونیورسٹی  اور امریکی سفارتخانہ کے درمیان جاری  شراکت  کو سراہتے ہوئے کہا کہ    کانفرنس کے انعقاد کے نتیجہ میں  پاکستان اور امریکہ کے دانشوروں کو  باہمی تعلقات پر تفصیلی   غور و فکر کا موقع میسر آیا ہے۔ اُن کا  مزید کہنا تھا کہ ایریا اسٹڈی سنٹر کی جانب سے  کانفرنس  کا انعقاد بروقت اقدام ہے کیونکہ موجودہ حالات میں   پاک-امریکہ تعلقات تبدیلی کے مراحل سے گزر رہے ہیں جبکہ بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں بھی انسانی جان کے تحفظ کو مرکزی حیثیت حاصل ہونے کی حقیقت کا ادراک کیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں امریکن اسٹڈیز کےموضوع کو فروغ   دینے کی کاوش میں شرکت اور دونوں ممالک کے درمیان پچہتر برس کے تعلقات   پر گفتگو کو اپنے لیے باعث فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان  کےدرمیان  کئی دہائیوں سے باہمی حمایت، معاشی روابط اور عوامی سطح پر  تعلقات  پر مبنی    وسیع اور  مضبوط شراکت قائم ہے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی وفاقی وزیر برائے تربیتی اُمور رانا تنویر حسین نے  اعترا ف کیا کہ امریکہ ہمیشہ سے  پاکستانیوں کو شاندار تعلیمی قابلیت سے مالامال کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل رہا ہے او ر تعلیمی تبادلہ پروگرام نہایت ہی زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے ہیں  جبکہ فلبرائٹ پروگرام پہلے ہی خواتین او ر نوجوانوں کو  مواقع کی فراہمی میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کو باہمی تعاون کے دیگر امکانات بھی تلاش کرنے چاہئیں۔ تقریب کے دوسرےمہمان خصوصی سینیٹر مشاہد حسین نے  کہا کہ  مجھے  خوشی ہے کہ ہمارے تعلقات گزشتہ دو دہائیوں سے   جاری  سیکیورٹی پر مبنی محدود   پالیسیوں سے آگے بڑھ رہے ہیں ،دونوں ملکوں کے لوگوں  کے درمیان بھی باہمی  تعلقات  فروغ  پا رہے ہیں اور تعلیم کو مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ کانفرنس میں خصوصی اور مجموعی نشستیں اور دو ورکنگ گروپ شامل تھے اور  اس میں پاکستانی اور امریکی دانشوروں اور ماہرین نے دو طرفہ تجارتی تعلقات   ، تعلیمی تبادلوں اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مستحکم کرنے میں نوجوانوں، خواتین اور  تارکین وطن کے  کردار  کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اس   کانفرنس میں قائد اعظم یونیورسٹی کے  طالبعلم، اساتذہ، تحقیقی اداروں کے ارکان ، خارجہ، تجارت اور  موسمیاتی تبدیلی کی وزارتوں کے  نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ایریا اسٹڈی سنٹر کی ڈائریکٹر اور کانفرنس کی  آرگنائیزر ڈاکٹر سعدیہ سلیمان نے اختتامی سیشن  کی قیادت کی جس میں شرکاء نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے ممکنہ مستقبل کے  بارے میں    اپنی سفارشیں پیش کیں۔ قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی  اور امریکی سفارتخانہ کی ڈپٹی قونصلر فار پبلک آفیئرز جیکلین ڈیلی نے اپنے اختتامی کلمات  میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

###