Flag

An official website of the United States government

مہرگڑھ میوزیم بلوچستان کیلئے تین لاکھ بیس ہزار ڈالرز کا اعلان 
کی طرف سے
1 منٹ پڑھیں
جنوری 23, 2024

کراچی (23 جنوری 2024) – پاکستان میں مقرر امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم اور نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان علی مردان خان ڈومکی نے بلوچستان میں امریکی سفیر کی جانب سے فنڈ برائے بحالیٴ تاریخی وثقافتی ورثہ (AFCP) کے پہلے منصوبے کا آغاز کیا۔ اس تاریخی اقدام کے تحت تین لاکھ بیس ہزار ڈالرز سے زائد رقم مختص کی گئی ہے، جو کہ مہر گڑھ تہذیب کے نیئولیتھک دور کے آثار اور دیگر تاریخی نوادرات کی حفاظت کے علاوہ  کوئٹہ میں قائم مہرگڑھ میوزیم آف بلوچستان کی انتظامکاری کو مزید بہتر بنانے کیلئے استعمال کی جائے گی۔ امریکی سفیرڈونلڈ بلوم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “یہ کوشش اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکہ بلوچستان کے ثقافتی ورثے کو اہمیت  دیتا ہے اور اسکی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنا ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔”

امریکی حکومت کیجانب سے پاکستان بھر میں ثقافتی ورثہ سے متعلق 33 منصوبوں کے لیئے 80 لاکھ ڈالر سے زائد فنڈز خرچ کیئے گئے ہیں۔ مذکورہ منصوبوں میں صوبہ سندھ کے ورن دیومندر، فریئرہال، نسروانجی بلڈنگ اوریونیسکوورلڈ ہیریٹیج کے مقام مکلی کے تاریخی قبرستان میں واقع سلطان ابراہیم اورامیرسلطان محمد کے مقبروں کی بحالی شامل ہے۔

منصوبے کی افتتاحی تقریب میں کراچی میں مقرر امریکی قونصل جنرل کانریڈ ٹربل، بلوچستان حکومت کے محکمہ ثقافت کے اعلیٰ حکام، سیز کے شریک بانی ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری اور ڈاکٹر عاصمہ ابراہیم نے شرکت کی، جبکہ تقریب میں مہرگڑھ کی تاریخ اور مہر گڑھ میوزیم آف بلوچستان پر روشنی ڈالی گئی۔

مہر گڑھ میوزیم آف بلوچستان کا قیام ستمبر2022 کوعمل میں آیا، جو کہ خطے کی ابتدائی تاریخ کے متعلق آگاہی دیتا ہے۔ مہر گڑھ کے نوادرات کو عالمی سطح پربھی پزیرآئی ملی ہے جو کہ نیو یارک میں میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ اور پیرس کے میوسی گیمے میوزیم میں نمائش کے لیئے رکھے گئے ہیں، جو کہ پاکستان کی آثار قدیمہ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

اس امریکی گرانٹ سے ملنے والی مالی اعانت سے میوزیم کی تزئین ونمائش کی بہتری اور بلوچستان ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی کے عملے کی تربیت اور انکی آبادی تک رسائی میں اضافہ ہوگا۔ اے ایف سی پی کا یہ منصوبہ حکومت بلوچستان کے محکمہ ثقافت اور سندھ ایکسپلوریشن اینڈ ایڈونچرسوسائٹی کے اشتراک سے نافذ العمل ہوا ہے، جبکہ یہ منصوبہ خطے کے ثقافتی منظرنامے کو محفوظ رکھنے کی کاوشوں میں معاونت فراہم کرے گا۔

###