پاکستان کیلے امریکی تعاون

  1. حقائق نامہ
  2. پاکستان کیلے امریکی تعاون

پاکستان کیلیے امریکی حکومت کے غیر فوجی تعاون پروگرام کا بنیادی مقصد ایک مستحکم، محفوظ، روادار اور متحرک معیشت کے حامل پاکستان کا قیام ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلیے پاکستان میں تعلیم، توانائی، صحت، اقتصادی ترقی اور زراعت سمیت دیگر شعبوں میں بے شمار منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے جن کی تفصیل یہاں فراہم کی گئی ہے۔

توانائی

جامشورو تھرمل پاور پلانٹ کی مرمت اور بحالی

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) جامشورو تھرمل پاور اسٹیشن یونٹ 1-4 کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے 19.33 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پرانی مشینوں اور پلانٹ کی مناسب دیکھ بھال نا ہونے کے باعث بجلی کی پیداوار میں پیدا ہونے والی کمی کو دور کرنا ہے۔ مرمت اور بحالی کے بعد جامشورو تھرمل پاور پلانٹ سے قومی گرڈ کو بجلی کی اضافی اور بلا تعطل فراہمی ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ پلانٹ کی پیداواری صلاحیت میں 270 میگاواٹ کے اضافے سے 6 لاکھ خاندانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کی جا سکیں گی۔

گڈو تھرمل پاور اسٹیشن کی مرمت اور بحالی

USAID گڈو پاور اسٹیشن کی مرمت اور دیکھ بھال کے لئے 19.12 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔ منصوبے کا مقصد تھرمل پاور اسٹیشن کی پیداواری صلاحیت میں 75 میگاواٹ جبکہ قومی گرڈ میں سالانہ 507 گیگاواٹ اوٓور توانائی کا اضافہ کرنا ہے۔ منصوبے کی تکمیل پر پاور اسٹیشن کی پیداواری استعداد میں اضافے سے تقریباً ایک لاکھ گھرانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کی جاسکیں گی۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کیلیے منصوبہ

یہ پروگرام سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں بجلی ترسیل کرنے والی کمپنیوں کو خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور انتظامی اور مالی بے قاعدگیوں کو دور کرنے سمیت بے شمار دیگر شعبوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ USAID سندھ میں حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (HESCO) اور سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (SEPCO) کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

تعلیم

سندھ بیسک ایجوکیشن پروگرام

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) 2011 سے سندھ کے سات اضلاع اور کراچی کے پانچ ٹاونز میں پرائمری، مڈل اور سیکنڈری اسکولوں میں طلبا کے اندراج میں اضافے کے لئے حکومت سندھ کے ساتھ مل کر 155 ملین ڈالر کے سندھ بیسک ایجوکیشن پروگرام (SBEP) پر کام کر رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مندرجہ درج ذیل اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔

اسکولوں کی تعمیر – سندھ کے سیلاب سے متاثرہ اور دیگر علاقوں میں 120 نئے اسکولوں کی تعمیر۔

سندھ ریڈنگ پروگرام – ساڑھے 7 لاکھ بچوں کی پڑھنے کی صلاحیتیں بہتر بنانے کیلیے کوششیں۔

سندھ کمیونٹی موبلائزیشن پروگرام – منصوبے کے اس حصے کے ذریعے سندھ کی 400 آبادیوں کو اپنی مدد آپ کے تحت اسکولوں کی تعمیر، ان کے انتظام اور دیکھ بھال کیلیے تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔ ان اسکولوں میں ایک لاکھ لڑکیوں کے اندراج کے ساتھ ساتھ اسکولوں کا نظام چلانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹرشپ کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ طلبا میں غذائی قلت پر قابو پانے کے لئے اقدامات بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

سندھ کپیسٹی ڈیولپمنٹ پراجیکٹ – منصوبے کے اس حصے کے ذریعے وزارت تعلیم سندھ کو مالیاتی اور انتظامی امور کی موثر نگرانی کے لئے معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

آرکیٹیکٹ اینڈ انجینئرنگ سپورٹ پروگرام – حکومت سندھ کے تحت تعمیر کیے جانے والے اسکولوں کے منصوبوں کو موثر انداز میں مکمل کرنے کیلیے ڈیزائننگ، کنٹریکٹنگ اور تعمیراتی شعبوں میں تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔

پاکستان ریڈنگ پروگرام

یہ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کی جانب سے 160 ملین ڈالر کی لاگت سے ترتیب دیا گیا پانچ سالہ منصوبہ ہے جس کے تحت 10 لاکھ سے زائد بچوں میں مطالعے کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے تین مراحل میں کام کیا جارہا ہے۔ پہلے مرحلے میں اساتذہ کی تربیت کے ذریعے طلبا میں سیکھنے کے عمل کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں انفارمیشن سسٹمز اور ریڈنگ اسسمنٹس کے ذریعے اسکولوں کے انتظام کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں قومی سطح پر مطالعے کو فروغ دینے کے لئے مہم چلائی جائے گی۔

فل برائٹ اسکالرشپ پروگرام

USAID پاکستان 2005 سے جاری فل برائٹ اسکالرشپ پروگرام کیلیے تقریباً 19 ملین ڈالر سالانہ خرچ کر رہا ہے۔  میں جاری فل برائٹ اسکالرشپ پروگرام دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ سندھ سے پی ایچ ڈی کی تعلیم  کے لئے 40 جبکہ ماسٹرز ڈگری کیلیے 500 سے زائد طلبا کو امریکا کے مختلف تعلیمی اداروں میں بھیجا جاچکا ہے۔

ضرورت مند طلبا کیلیے اسکالرشپس کا منصوبہ

اس منصوبے کے تحت ہائیر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے اشتراک سے باصلاحیت اور ضرورت مند پاکستانی نوجوانوں کو 21 پاکستانی یونیورسٹیوں میں گریجویٹ اور ماسٹرز ڈگری کے حصول کیلیے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ طلبا کی مکمل فیس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں وظیفہ، رہائش اور کتابیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت تجارت، زراعت، سوشل سائنسز، طب اور انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے جبکہ سندھ سے تعلق رکھنے والے 600 سے زائد طلبا کو زراعت اور بزنس ایڈمنسٹریشن کی تعلیم کے لئے وظائف دیئے جا چکے ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی کا منصوبہ

2011 میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے جنوبی سندھ کے 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ بے شمار اسکولوں کو نقصان پہنچا۔ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) ان تباہ حال اسکولوں کی بحالی اور طلبا کے اندراج میں اضافے کیلیے حکومت سندھ کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے 40 ملین ڈالر کی لاگت سے سانگھڑ، عمر کوٹ، ٹنڈو الہ یار اور میرپور خاص میں 20 اسکولوں کی بحالی کا کام کیا جارہا ہے۔

صحت

ماں اور بچے کی صحت کا پروگرام

ماں اور بچے کی صحت کا منصوبہ 2012 میں قومی سطح پر شروع کیا گیا جس کا مقصد 387 ملین ڈالر کی لاگت سے سرکاری اور نجی شعبے میں فراہم کی جانے والی صحت کی سہولیات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ پروگرام امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے گذشتہ منصوبوں سے مطابقت رکھتا ہے جن کے تحت نا صرف پاکستان کے 26 اضلاع میں زچگی کے دوران اموات کو 23 فیصد کم کرنے میں مدد ملی بلکہ 15 اضلاع میں خاندانی منصوبہ بندی کے مختلف طریقوں کے استعمال میں 8.5 فیصد اضافہ بھی ہوا۔ ان مقاصد کے حصول کیلیے عوام کو منصوبے میں شراکت دار بنایا گیا، طبی عملے کی تربیت کی گئی اور عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ ماں اور بچے کی صحت کے پروگرام میں شامل اہم منصوبے مندرجہ ذیل ہیں۔

  • خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت
  • زچہ و بچہ کی صحت
  • ہیلتھ کمیونیکیشن
  • صحت کی سہولیات کی موثر فراہمی
  • صحت کے نظام کو مضبوط بنانا

متعدی امراض

بیماریوں پر تحقیق اور لیبارٹری تربیتی پروگرام

اس منصوبے کے تحت ایک طبی مرکز قائم کیا جائے گا جو پاکستان بھر میں ہیپٹائٹس سرویلینس سینٹرز قائم کرے گا۔ کراچی کے سول اسپتال میں ایک سرویلینس سینٹر پہلے ہی قائم کیا جا چکا ہے۔ 1.5 ملین ڈالر کی سالانہ لاگت سے جاری اس منصوبے میں عملے کی تربیت، ہیپٹائٹس اے، بی، سی، ڈی اور ای کی تشخیص کے لئے مشینری اور دیگر ساز و سامان کی فراہمی شامل ہے۔

اسپتالوں میں مخصوص شعبہ جات کی تعمیر

امریکا 1950 سے کراچی میں قائم جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) کو معاونت فراہم کر رہا ہے۔ 2012 میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے تعاون سے 60 بستروں پر مشتمل امراض نسواں وارڈ کی تعمیر مکمل کی گئی جس میں میڈیکل طلبا کی تربیت کیلیے سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اس وارڈ کی بدولت سالانہ 14 لاکھ سے زائد خواتین کی دیکھ بھال ممکن ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (JPMC) میں 120 بستروں پر مشتمل میٹرنٹی وارڈ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔

جیکب آباد انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے تعاون سے جیکب آباد میں 133 بستروں پر مشتمل اسپتال تعمیر کیا گیا ہے جو جیکب آباد، گرد و نواح اور بلوچستان کے قریبی علاقوں کے 14 لاکھ سے زائد افراد کو طبی سہولیات فراہم کرے گا۔

اقتصادی ترقی اور زراعت

نجی شعبے کیلیے سازگار ماحول کا فروغ

اس 90 ملین ڈالر کے چار سالہ منصوبے کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کیلیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ منصوبے کے تحت صوبہ سندھ میں مندرجہ ذیل شعبوں میں تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔

آم – پاکستانی آم کی پیداوار میں اضافے، معیار کو بہتر بنانے اور بیرون ملک منڈیوں تک پہنچانے کیلیے کوششیں کی جارہی ہیں۔

کھجور – منصوبے کے اس حصے کا مقصد پروسیسنگ سہولیات کی فراہمی اور ضیائع پر قابو پا کر پاکستانی کھجور کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ غیر میعاری خشک کھجور کے مقابلے میں تازہ کھجور کی سالانہ پیداوار میں اضافے کیلیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات کی بدولت پاکستانی کھجور کی فروخت میں اضافے سے ساڑھے تین لاکھ ڈالر کی آمدنی متوقع ہے جبکہ بے شمار افراد کو روزگار مہیا ہو سکے گا۔ اس منصوے کے تحت ایک کمرشل کولڈ اسٹوریج کی سہولت بھی فراہم کی جارہی ہے۔

بنُا ہوا کپڑا – پاکستان میں بنُے ہوئے کپڑے کی صنعت کے فروغ کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس مقصد کیلیے افرادی قوت کی تربیت، پیداوار میں اضافے اور خام مال کے ضیائع کو روکنے کیلیے کوششیں منصوبے کا حصہ ہیں جس کے بعد 20 صنعتی یونٹوں کو بین الاقوامی معیار کی مصنوعات تیار کرنے کے قابل بنایا جاسکے گا۔ ان گارمنٹس مصنوعات کی فروخت سے 1.4 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے جبکہ 4100 نئی ملازمتوں کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔

سازگار معاشی ماحول کا فروغ – منصوبے کے اس حصے کا مقصد منصوبہ بندی، پالیسیوں اور ضابطوں کو بہتر بنا کر پاکستان میں کاروباری ماحول کو معاشی ترقی کیلیے سازگار بنانا ہے۔ یہ پروگرام زراعت کے شعبے میں اصلاحات اور اداروں کی استعداد بڑھانے میں حکومت سندھ کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔

پاکستان گرین اسٹوریج پروگرام

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) کے ساتھ معاہدے کے تحت حکومت سندھ کو اناج ذخیرہ کرنے کے لیے گوداموں کی تعمیر اور ان کے انتظام کیلیے نجی شعبے کو اپنے ساتھ شامل کرنے کیلیے معاونت فراہم کررہا ہے۔ USAID کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کو استعمال کرتے ہوئے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) نے اس شعبے میں سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان تعاون کیلیے منصوبہ بندی تیار کی ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایسا نظام بھی ترتیب دیا گیا ہے جس کے تحت حکومت سندھ نجی شعبے کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے بہترین منصوبوں کا انتخاب کرکے لائحہ عمل ترتیب دے سکے گی۔

تاجروں کیلیے منصوبہ

اس چار سالہ منصوبے کے تحت منتخب زرعی اور غیر زرعی اشیا کی پیداوار میں اضافے اور مارکیٹنگ کے ذریعے چھوٹے کاروبار سے منسلک افراد خاص طور پر خواتین کی آمدنی میں اضافے کیلیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ منصوبے کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات کیے گئے ہیں۔

  • گارمنٹس کی صنعت سے وابستہ سیلاب سے متاثر ہونے والی دو ہزارخواتین کو چھوٹے امدادی پیکج فراہم کیے گئے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے بعد ہر خاتون کے آمدنی میں 66 ڈالر کا اضافہ ہوا۔
  • لاڑکانہ اور دادو میں خوشحال لائیو اسٹاک پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا۔ امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ 22 ہزار سے زائد ڈیری فارمرز کو ویکسینیشن اور چارا فراہم کیا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق پروگرام کی معاونت سے تشکیل پانے والے نئے کاروباری منصوبوں سے منسلک خواتین کی آمدنی میں 12 سے 41 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
  •  منصوبے کے مشترکہ مالی تعاون کے اس حصے کے تحت دودھ کو ٹھنڈا رکھنے والے 60 چلرز نصب کیے جارہے ہیں جن میں ایک ہزار لیٹر دودھ رکھا جا سکے گا۔ اس منصوبے کا مقصد دودھ کی ترسیل کے نظام کو منظم کرنا ہے تاکہ بازار تک پہنچنے تک کم سے کم دودھ ضائع ہو۔ اگلے تین سال کے دوران دودھ کی پیداوار میں 23 ملین لیٹر کا اضافہ متوقع ہے جس سے اس منصوبے سے منسلک 19 ہزار افراد کو 11 ملین ڈالر کی اضافی آمدنی متوقع ہے۔

زراعت سے منسلک کاروبار کی ترقی

USAID کا یہ منصوبہ کیلے اور مرچ کی پیداوار سے متعلق ہے۔ کیلے کی پیداوار میں اضافے اور اسے محفوظ رکھنے کے طریقوں کے بارے میں آباد گاروں کو تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح مرچ کی فصل کو کٹائی کے بعد بیماری سے بچانے کیلیے معاونت بھی پروگرام کا حصہ ہے۔ سندھ کے شہر کنرنی میں ایک ہزار کسان اس منصوبے سے منسلک ہیں۔

سماجی خدمات

اینٹی فراڈ ہاٹ لائن

USAID پاکستان نے آفس آف انسپکٹر جنرل (OIG) کے اشتراک سے تین ملین ڈالر کے پانچ سالہ اینٹی فراڈ ہاٹ لائن پروگرام کا معاہدہ کیا ہے۔ انگریزی، اردو، پشتو، سندھی اور بلوچی زبانوں میں موجود اس ہاٹ لائن کے ذریعے پاکستان میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے زیر انتظام منصوبوں میں خرد برد، فنڈز کے ضیائع اور غلط استعمال کی شکایات درج کرائی جاسکتی ہیں۔ ہاٹ لائن پر ٹیلی فون، ڈاک، ویب سائٹ اور ای میل کے ذریعے شکایات درج کرانے کی سہولت موجود ہے۔ ان شکایات کے اندراج اور ابتدائی جانچ پرتال کے بعد مزید تحقیقات کے لئے انسپکٹر جنرل (OIG) کے دفتر بھجوا دیا جاتا ہے۔ ہاٹ لائن کا دفتر کراچی میں موجود ہے اور اس کا ٹول فری نمبر 08008470 ہے۔

سیاسی جماعتوں کا پروگرام

اس پانچ سالہ 21.5 ملین ڈالر مالیت کے منصوبے کا مقصد قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ پروگرام کے تحت سیاسی جماعتوں کو عوام کے مفادات کا بہتر انداز میں تحفظ کرنے اور احتساب کو فروغ دینے کیلیے مندرجہ ذیل شعبوں میں مدد فراہم کی جارہی ہے۔

  • حکومتی پالیسی اور قانون سازی کے عمل میں سیاسی جماعتوں کی شرکت میں اضافہ۔
  • سیاسی جماعتوں کے عوام اور اپنے کارکنوں سے روابط کو مزید مستحکم کرنا۔
  • سیاسی جماعتوں کو تحقیق، تجزیے اور تربیت کے عمل میں معاونت فراہم کرنا۔
  • سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی اور شفافیت کو فروغ دینے کیلیے تعاون فراہم کرنا۔

USAID کا یہ منصوبہ آزادانہ رائے عامہ ہموار کرنے اور خواتین کی سیاسی جماعتوں میں شرکت میں اضافے کیلیے بھی مددگار ثابت ہورہا ہے۔

اسمال گرانٹس پروگرام

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے اسمال گرانٹس پروگرام کے تحت ایمبیسیڈرز فنڈ، جینڈر ایکوٹی پروگرام اور سٹیزن وائس پروگرام کے منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے غیر سرکاری تنظیموں اور کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز (CBO) کو چھوٹے کاروبار کی ترویج، گھروں کی کفالت کرنے والی خواتین کیلیے زمین کے مالکانہ حقوق کے حصول، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے منصوبوں، تشدد کا شکار خواتین کے لئے پناہ گاہوں کے قیام، خواتین کے لئے قومی شناختی کارڈ کے حصول میں معاونت، کچرے کو مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کے نظام کے قیام، کاشتکار تنظیموں کی استعداد میں اضافے اور مقامی حکومتوں کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کے فروغ کیلیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

سندھ میونسپل سروسز پروگرام

یہ منصوبہ 2011 میں 66 ملین ڈالر کی لاگت سے شروع کیا گیا جس کے تحت سندھ میں بنیادی ڈھانچے اور بلدیاتی خدمات کو بہتر بنانے کیلیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ پروگرام کی مالیت کا تقریباً 70 فیصد حصہ بلدیاتی خدمات کو بہتر بنانے میں صرف ہوگا جبکہ منصوبے کے تحت 36 ملین ڈالر کی لاگت سے جیکب آباد میونسپل پراجیکٹ پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت فراہمی اور نکاسی آب اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے قدیم اور بوسیدہ نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔ اس سہولت سے ڈھائی لاکھ افراد فائدہ اٹھا سکیں گے جبکہ پروگرام میں عوام خاص طور پر خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

توانائی

بجلی کی تقسیم کا منصوبہ

اس منصوبے کے تحت حکومتی بجلی سپلائی کرنے والے اداروں بشمول کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (QESCO) کو لائن لاسز میں کمی، بجلی کی ترسیل کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے اور صارفین کو بجلی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کیلیے تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا مقصد بجلی سپلائی کرنے والے اداروں کے انتظامی امور کو بہتر بنانا، آمدنی میں اضافہ اور کسٹمر سروس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

تعلیم

ضرورت مند طلبا کیلیے اسکالرشپس

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے اس منصوبے کے تحت باصلاحیت طلبا کو گریجویٹ اور ماسٹرز کی سطح پر زراعت اور بزنس ایڈمنسٹریشن کے شعبوں میں پاکستان کی 11 جامعات میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز کوئٹہ بھی شامل ہے۔

پاکستان ریڈنگ پراجیکٹ

پاکستان ریڈنگ پراجیکٹ قومی سطح کا پانچ سالہ منصوبہ ہے جس پر بلوچستان کے 17 اضلاع میں عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ منصوبے کا مقصد طلبا میں پڑھنے کے رجحان میں اضافہ اور سرکاری اور چھوٹے نجی اسکولوں کے انتظام کو بہتر بنا کر طلبا کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔

ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی معاونت

USAID پاکستان کی 21 معیاری جامعات بشمول خواتین یونیورسٹیوں کو مالی معاونت فراہم کررہا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے ان جامعات کو زراعت، انجینئرنگ، توانائی، ٹیکنالوجی اور ہائیڈرولوجی کے شعبوں میں لیبارٹریوں اور تدریسی مواد بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کیلیے فنڈز فراہم کیے جارہے ہیں۔ ان یونیورسٹیوں میں بلوچستان کی سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی اور لسبیلہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر، واٹر اینڈ میرین سائنسز بھی شامل ہیں۔

فل برائٹ اسکالرشپ

فل برائٹ پروگرام کے تحت نمایاں کارکردگی دکھانے والے پاکستانی طلبا کو امریکی جامعات میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کرنے کیلیے اسکالرشپس فراہم کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں جاری فل برائٹ اسکالرشپ پروگرام دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی میں پاک امریکا اشتراک

اس منصوبے کا مقصد پاکستانی اعلیٰ تعلیم کے اداروں کو امریکی جامعات کے ساتھ منسلک کر کے پاکستانی یونیورسٹیوں میں کی جانے والی تحقیق کے معیار اور اس کی مطابقت کو بہتر بنانا ہے۔ اس سلسلے میں پانی کے وسائل پر بلوچستان یونیورسٹی میں ایک تحقیق مکمل کی جا چکی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی بحالی

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) 2010 کے سیلاب میں ضلع جعفرآباد اور نصیرآباد میں سیلاب سے تباہ حال اسکولوں کی ازسرنو تعمیر کے لئے 6 ملین ڈالر فراہم کر رہا ہے۔

صحت

بچوں کی نگہداشت

USAID کے اس منصوبے پر بلوچستان کے تین اضلاع کوئٹہ، گوادر اور کیچھ میں عمل درآمد ہو رہا ہے۔ بچوں کی نگہداشت کے پروگرام کا مقصد مقامی دائیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ کر کے زچہ و بچہ کی صحت اور اس سے منسلک خدمات کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ دائیوں کو تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انھیں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے ساتھ منسلک کر کے معاشرے کے مختلف طبقوں سے رابطہ استوار کرنے میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت حکومت بلوچستان کو تولیدی صحت سے متعلق منصوبہ بندی کیلیے معاونت بھی فراہم کی جائے گی۔

خاندانی منصوبہ بندی کیلیے وسائل کی فراہمی

اس منصوبے کے تحت حکومت بلوچستان کو خاندانی منصوبہ بندی کیلیے درکار وسائل میں طلب و رسد کا فرق ختم کرنے کیلیے معاونت فراہم کی جارہی ہے۔

معاشی ترقی اور زراعت

بلوچستان ایگریکلچر پراجیکٹ

اس منصوبے کا مقصد افغان سرحد کے ساتھ واقع بلوچستان کے آٹھ اضلاع میں 700 غریب آبادیوں کے عوام کی آمدنی میں اضافے کیلیے کوششیں کرنا ہے۔ بلوچستان ایگریکلچر پراجیکٹ کے تحت کسانوں کو اپنی فصل اور مویشیوں کی افزائش میں اضافے کے لئے تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نئی منڈیوں کی تلاش میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ منصوبے کے تحت فصل اور مویشیوں کی خریداری اور آب پاشی کیلیے فنڈز بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

چھوٹے تاجروں کی معاونت

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے اس منصوبے کے ذریعے ضلع پشین میں دستکاری کی صنعت سے منسلک دو ہزار گھریلو خواتین کو نئی منڈیوں تک رسائی فراہم کر کے ان کی آمدنی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس پراجیکٹ کی بدولت ان ہنر مند خواتین نے نا صرف چھوٹے کاروباری گروپ تشکیل دیے بلکہ منڈیوں اور کاروباری خدمات سے روابط بھی استوار کیے۔

سماجی خدمات

اینٹی فراڈ ہاٹ لائن

USAID پاکستان نے آفس آف انسپکٹر جنرل (OIG) کے اشتراک سے تین ملین ڈالر کے پانچ سالہ اینٹی فراڈ ہاٹ لائن پروگرام کا معاہدہ کیا ہے۔ انگریزی، اردو، پشتو، سندھی اور بلوچی زبانوں میں موجود اس ہاٹ لائن کے ذریعے پاکستان میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے زیر انتظام منصوبوں میں خرد برد، فنڈز کے ضیائع اور غلط استعمال کی شکایات درج کرائی جاسکتی ہیں۔ ہاٹ لائن پر ٹیلی فون، ڈاک، ویب سائٹ اور ای میل کے ذریعے شکایات درج کرانے کی سہولت موجود ہے۔ ان شکایات کو اندراج اور ابتدائی جانچ پرتال کے بعد مزید تحقیقات کے لئے انسپکٹر جنرل (OIG) کے دفتر بھجوا دیا جاتا ہے۔ ہاٹ لائن کا دفتر کراچی میں موجود ہے اور اس کا ٹول فری نمبر 080084700 ہے۔

سیاسی جماعتوں کی معاونت کا پروگرام

اس پانچ سالہ 21.5 ملین ڈالر مالیت کے منصوبے کا مقصد قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی رکھنے والی سیاسی جماعتوں کو معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ USAID کا یہ منصوبہ آزادانہ رائے عامہ ہموار کرنے اور خواتین کی سیاسی جماعتوں میں شرکت میں اضافے کیلیے مددگار ثابت ہورہا ہے۔ پروگرام کے تحت سیاسی جماعتوں کو عوام کے مفادات کا بہتر انداز میں تحفظ کرنے اور احتساب کو فروغ دینے کیلیے مندرجہ ذیل شعبوں میں مدد فراہم کی جارہی ہے۔

  • حکومتی پالیسی اور قانون سازی کے عمل میں سیاسی جماعتوں کی شرکت میں اضافہ کرنا۔
  • سیاسی جماعتوں کے عوام اور اپنے کارکنوں سے روابط کو مزید مستحکم کرنا۔
  • سیاسی جماعتوں کو تحقیق، تجزیے اور تربیت کے عمل میں معاونت فراہم کرنا۔
  • سیاسی جماعتوں کو خود احتسابی اور شفافیت کو فروغ دینے کیلیے تعاون فراہم کرنا۔

 اسمال گرانٹس پروگرام

امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (USAID) کے اسمال گرانٹس پروگرام کے تحت کئی منصوبوں پر کام کیا جا رہا ہے جن میں ایمبیسیڈرز فنڈ، جینڈر ایکوٹی پروگرام اور سٹیزن وائس پروگرام شامل ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے غیر سرکاری تنظیمیں اور کمیونٹی بیسڈ آرگنائزیشنز (CBO) کو جن شعبوں میں معاونت فراہم کی جا رہی ہے ان میں چھوٹے کاروبار کی ترویج، گھروں کی کفالت کرنے والی خواتین کیلیے زمین کے مالکانہ حقوق کا حصول، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے منصوبے، تشدد کا شکار خواتین کے لئے پناہ گاہوں کا قیام، خواتین کے لئے قومی شناختی کارڈ کے حصول میں معاونت، کچرے کو مناسب طور پر ٹھکانے لگانے کے نظام کو بہتر بنانا، کاشتکار تنظیموں کی استعداد بڑھانا اور مقامی حکومتوں کے ساتھ صحت کے شعبے میں تعاون کا فروغ شامل ہیں۔

 ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ

اس منصوبے کے تحت 2009 اور 2010 کے سیلاب سے خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان کے متاثر ہونے والے علاقوں میں معاشی ترقی اور امن و امان کی بحالی کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

قلات، کوئٹہ اور چمن روڈ کی تعمیر

حکومت پاکستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت قلات، کوئٹہ اور چمن روڈ کی تعمیر اور مرمت کے لئے 90 ملین ڈالر فراہم کیے جارہے ہیں۔